24 جنوری 2017 - 15:40
دنیا کو فلسطین مخالف ٹرمپ کے عزائم کے خلاف آواز اٹھانا ہو گی: سابق عرب لیگ چیف

عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل نے امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی کے سنگین نتائج پر انتباہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین مخالف ڈونلڈ ٹرمپ کے عزائم کے خلاف اٹھے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل نے امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی کے سنگین نتائج پر انتباہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین مخالف ڈونلڈ ٹرمپ کے عزائم کے خلاف اٹھے.

'عمرو موسيٰ' نے اپنے ايك بيان ميں كہا كہ اسلامي، عربي اور عيسائي ممالك امريكي صدر كے فلسطين مخالف اقدامات پر مشتركہ مؤقف اپنائيں.

انہوں نے انتباہ كيا كہ تل ابيب سے امريكي سفارتخانے كو بيت المقدس منتقل كئے جانے كے سنگين نتائج برآمد ہوں گے.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ عالمي برادري ڈونلڈ ٹرمپ كو سخت پيغام دے اور اسے بتائے كہ فلسطين ريڈ لائن ہے اور فلسطينيوں كے مستقبل سے كھيلنے كا سنگين انجام ہو گا.

عمرو موسيٰ نے بتايا كہ ٹرمپ انتظاميہ كي جانب سے امريكي سفارتخانے كو فلسطين منتقل كرنے كا فيصلہ غيرسنجيدہ ہے جس سے مشرق وسطي ميں امن كوششوں پر منفي اثرات پڑيں گے.

تفصيلات كے مطابق، فلسطيني صدر محمود عباس نے بھي امريكہ كو اپنے سفارتخانے كي منتقلي كے حوالے سے انتباہ كرتے ہوئے كہا كہ اس اقدام سے مشرق وسطي ميں امن و استحكام شديد متاثر ہو گا.

اس سے پہلے نئے امريكي صدر ڈونلڈ ٹرمپ امريكي سفارت خانے كو تل ابيب سے مقبوضہ بيت المقدس منتقل كرنے كا اعلان كر چكے ہيں.

اس سے قبل ٹرمپ نے ناجائز صيہوني رياست كے وزير اعظم سے وعدہ كيا تھا كہ وہ صدارتي عہدہ سنبھالنے كے بعد امريكي سفارتخانے كو تل ابيب سے مقبوضہ بيت المقدس منتقل كرديں گے.

قابل ذكر ہے كہ ناجائز صيہوني رياست نے سنہ ١٩٦٦ء ميں بيت المقدس شہر كے بڑے حصے پر قبضہ كركے ١٩٨٠ء كے دوران اس سرزمين كو زير قبضہ علاقوں ميں شامل كرديا تھا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲